اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے کہا ہے اگر ہم دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ نہ کرتے تو اس وقت وہ بیروت میں ہوتا۔
المنار ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے شام میں داعش دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کی شمولیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حزب اللہ، شام میں دہشتگردوں کے خلاف بر سر پیکار نہ ہوتی تو داعش دہشت گرد گروہ، اس وقت بیروت کے مرکز میں ہوتا اور دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دیتا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے حالیہ خطاب میں "جرود عرسال" کو آزاد کرانے کے لئے حکومت کی ذمہ داری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کو آزاد کرانے کے لئے ہم حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ سعد الحریری کی قیادت میں المستقبل دھڑے کو چاہئے کہ "جرود عرسال" میں رونما ہونے والے واقعات اور دہشت گردوں کے قبضے سے اسے آزاد کرانے کے بارے میں اپنے موقف کا اعلان کرے۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ یہ بات غیر منطقی ہے کہ یہ دھڑا اس سلسلے میں اپنا موقف بیان کرنے سے گریز کرے۔ حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ حزب اللہ پوری توانائی کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور جب تک ضروری ہوگا حزب اللہ کے جوان، جنگ کے میدان میں ثابت قدم رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک لبنان کے تمام علاقوں کو غاصبوں کے قبضے سے آزاد نہیں کرالیں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲